style="display:inline-block;width:300px;height:250px"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="3879666265">
سابقہ ASI جھنگ پولیس محمد اسماعیل زندگی میں پہلی بار حصول انصاف کیلئے سوشل میڈیا سے افسران بالا سے مخاطب ہوں کیونکہ شاید اب انصاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سےہی ملتا ہے
میں اپنا موقف اور بیان برحلف قرآن پاک ریکارڈ کررہا ہوں میں محکمہ پولیس کے امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کرنیوالا وہ بدبخت پولیس افسر ہوں جو اسوقت ایک ظالم ڈی ایس پی کے ہاتھوں ستایا ہوا اپنے بچوں کے رزق کیلئے پردیس میں ملایشیا میں رہ رہا ہوں۔
میں حصول انصاف اور اپنے ساتھ ہونیوالے مظالم بتانے کیلئے اس تحریر میں جانب آئی جی پنجاب شعیب دستگیر صاحب، محترم چیف جسٹس
صاحب اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سے مخاطب ہوں۔
میرے ساتھ ظلم کی داستان رقم کرنیوالا شخص ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی ھے جو اسوقت جھنگ میں بطور ڈی ایس سٹی سرکل تعینات ہے۔
آئی جی پنجاب جناب شعیب دستگیر صاحب کو چند اہم گزارشات ہیں جو انکے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں۔ کہ سیف اللہ بھٹی غالبا 2015 ، 2016
میں ڈی ایس پی پرموٹ ہوا تھا اور تقریبا 8 دفعہ بطور ڈی ایس پی سٹی سرکل تعینات رہ چکا ہے اور حال میں بھی ڈی ایس پی سٹی ہی تعینات ہے۔ آخر محکمے کی کیا مجبوری ہے کہ اسکو بار بار یہاں تعینات کردیا جاتا ہے۔یا اسکے سروس ریکارڈ میں کس وزیراعظم کا حکم نامہ درج ہے کہ اسے جھنگ بطور سٹی سرکل ڈی ایس پی ہی رہنا ہے۔یہ ضلع جھنگ سے باہر نوکری کرنے کے قابل نہیں ہے یا اسے کوئی سیاستدان اپنے سیاسی مفادات کیلئے افسران کو پریشرائز کروا کے تعینات کرواتا ھے۔
style="display:inline-block;width:300px;height:250px"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="3879666265">
محترم عمران خان صاحب آپ سے ہماری امیدیں وابستہ ہیں مگر شاید آپکو علم ہی نہیں کہ آپکے تلے یہ سیاستدان کیا کیا کارستانیاں سرانجام دے رہے ہیں۔۔آپکی پارٹی کی ایم این اے محترمہ غلام بی بی بھروانہ صاحبہ کا اس موصوف کی پشت پہ ہاتھ ہے۔اور سٹی سرکل میں 4 تھانے اور 6 چوکیات ہیں۔پورے سرکل کے غلام بی بی بھروانہ کے تمام ووٹرز کے جائز و ناجائز کام کرنا موصوف کے فرائض میں شامل ہے۔ سٹی سرکل میں موصوف کے ماتحت تمام پولیس افسران مجبور و بے بس ہیں کہ جو کوئی بھی غلام بی بی بھروآنہ کا ناجائز کام نہیں کرتا اسکے خلاف موصوف ڈی ایس پی کے ذریعے تبادلہ کروا دیا جاتا ھے اور اگر کوئی اکڑے تو اس سے انتقام لیا جاتا ہے۔موصوف کی ایم این صاحبہ کے ساتھ رغبت کی کچھ فوٹوز بھی اپلوڈ کررہا ہوں وہ بھی ملاحظہ کرے
محترم آئی جی صاحب کی توجہ اب کانسٹیبل شاہد رشید کی طرف مبزول کروانا چاہتا ہوں۔ شاہد رشید فیصل آباد پولیس کا کانسٹیبل ہے۔ اور سال 2013 سے ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی کے ساتھ ہی ہے۔چاہے اسکی تعیناتی جہاں بھی ہو وہ موصوف کے ساتھ ڈیوٹی کرتا ہے۔اسکا طرز زندگی اور مالی اثاثے اسکی 35 ہزار تنخواہ کیساتھ کوئی میل جول نہیں رکھتے۔اسلئے کہ تمام پولیس افسران اور عوام کی اس صاحب کے زریعے مکمل رازداری کے ساتھ جیبیں کاٹی جاتی ہیں۔ بے شک اس بات کی تحقیق کر لئ جائے۔میرا سوال ہے کہ کون ایسا پولیس افسر ہے جو قلیل تنخواہ میں اپنے گھر ، اپنے بیوی بچوں سے دور رہنا پسند کرے گا کنسٹیبل ہیڈ پرموٹ ہوا لیکن آج تک اسی کے ساتھ ہے۔مزکورہ ہیڈ کانسٹیبل تمام افسران کو ناجائز کاموں کیلئے ڈرائیکریٹ احکامات دیتا ہے۔اور صرف ڈی ایس پی صاحب کیلئے مال جمع کرنے کی ڈیوٹی دے رہا ہے۔جسکا بندہ ناچیز خود گواہ ہے۔
بدقسمتی سے میں موصوف کا 2018 میں ریڈر تعینات تھا۔ اور اسوقت کے ڈی پی او کیپٹن لیاقت ملک صاحب نے سرکل وائز کرپشن کے حوالے سے تفتیشی افسران کی خفیہ رپورٹس سرکل افسران سے طلب کیں۔جن میں A,B,C کیٹگری بنائی گئیں۔تو موصوف نے جملہ ASI صاحبان سے 5،5 ہزار اورجملہ SI صاحبان سے 10 ، 10 ہزار روپے لیکر انکی رپورٹس A کیٹگری میں لکھ دیں۔
میری ASI کی پرموشن آگئی اور بدقسمتی سے ACR سیف اللہ بھٹی صاحب نے لکھنی تھی تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا تو انکے ساتھ انکا کار خاص شاہد رشید نے مجھ سے 30 ہزار روپے لیکر میری ACR بنائی
style="display:inline-block;width:300px;height:250px"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="3879666265">
میں پروموٹ ہو کر انچارج چوکی سول لائن تعینات ہوا تو اسی دوران آئی جی پنجاب کیطرف سے منشیات فروشوں کے خلاف ایک مہم چلائی ھئی تو میں نے گلزار عرف گلزاری جو جھنگ کا معروف منشیات فروش ہے کو گرفتار کیا تو انکا ایک اور کار خاص اتفاق آئرن سٹور والا شیخ معاذ اسکو چھڑوانے کیلئے میرے پاس آیا اور اس نے بھٹی صاحب سے میری بات کروائی کہ اسکو چھوڑ دو مگر میں نے اسکو نہ چھوڑا تو انہوں نے اس بات کی رنجش پال لی اور وجہ عناد بنا لیاب میں تمام اعلی حکام کی توجہ اسکی ایک اور کرپشن کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس میں یہ موصوف براہ راست پارکو آئیل پائپ لائن سے تیل چوری کروانے میں ملوث ہے
اسکی تفضیلات کچھ اسطرح ہیں کہ موصوف ڈی ایس پی ڈی ایس پی صدر جھنگ تعینات تھے۔تو اسی دوران تیل چوری کرتے ہوئے ڈرائیور اور تیل سے بھرا ٹینکر موقع پر پکڑے گئے تھے۔جنکا مقدمہ تھانہ موچیوالا میں درج ہوا۔اور ڈرائیور کے انکشاف پر ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ڈی ایس پی صاحب کو اس واقع کی بھنک پڑتے ہی ملزمان سے بھاری رقم لیکر انکو بے گناہ کردیا۔تھانہ موچیوالا میں اس واقع کا ریکارڈ موجود ہے۔ اسکے بعد موصوف ڈی ایس پی صاحب پارکو کمپنی کے ایڈمن افسر کے ساتھ ملکر تیل چوری کرواتے رہے۔۔اور ایڈمن افسر خالد محمود کے خلاف عنصر نامی شخص نے تیل چوری کی درخواست دی جسکو موصوف ڈی ایس پی نے سنے بغیر درخواست کی رپورٹ افسران بالا کو بجھوائی۔اسی طرح تیل خود چوری کرواتے ہیں اور چوری کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروا دیا جاتا ہے۔عنصر نامی شخص کی درخواست ریکارڈ میں موجود ہے جسے چیک کیا جا سکتا ہے۔
موصوف کی اخلاقیات کا یہ حال ہے کہ فیصل آباد میں بطور انسپکٹر تعیناتی میں موصوف ڈی ایس پی کے خلاف زنا، جوا اور شراب نوشی کے مقدمات درج ہیں۔جو ریکارڈ پر ہے۔اور افسران بالا نے موصوف کے سروس ریکارڈ میں adverse remarks لکھ دئیے تھے تو موصوف کو مجبورا جھنگ تابدلہ کروا لیا۔
اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ موصوف نے مجھے کیوں اور کس رنجش کی بنا پر ظلم ستم کا نشانہ بنایا۔
2013 کی بات ھے سیف اللہ بھٹی ایس ایچ او سٹلائیٹ ٹاون جھنگ تھے۔اور اسوقت کے ڈی ایس پی صاحب نے اسکی کرپشن کی وجہ سے سیف اللہ بھٹی کے خلاف ڈی پی او جھنگ ذیشان اصغر کو تین رپورٹس بھجوائیں ڈی پی او صاحب نے اسکو شوکاز نوٹس جاری کئےاور انکو شک گزرا کہ میں انکی شکایتیں کرتا ہوں
اسکے بعد یہ اس خود ساختہ رنجش کی بنا پر مجھے یوں گویا ہوئے کہ میں تمہیں دیکھ لونگا۔ اسکے بعد 2018 میں کیپٹن لیاقت ملک صاحب کے دور میں ڈی ایس پی سٹی کا میں ریڈر تعینات تھا اور سیف اللہ بھٹی صاحب ڈی ایس پی صدر تھے جاوید انور صاحب DSP صدر نے کیپٹن صاحب کو اسکی کرپشن سے متعلق شکایت کی تو پھر موصوف کو مجھ پر شک گزرا کہ میں نے شکایت کروائی ھے اس نے دل میں اس رنجش کو پالنا شروع کردیا
میں پروموٹ ہو کر انچارج چوکی سول لائن تعینات ہوا تو اسی دوران میں نے گلزار عرف گلزاری جو معروف منشیات فروش ہے کو گرفتار کیا تو انکا ایک اور کار خاص شیخ معاذ اسکو چھڑوانے کیلئے میرے پاس آیا اور اس نے بھٹی صاحب سے میری بات کروائی کہ اسکو چھوڑ دو مگر میں نے اسکو نہ چھوڑا اس رنجش کی وجہ سے اپنے کار خاص شیخ معاذ کو میرے خلاف مدعی بنا کر میری بات سنے بغیر مجھ پہ ایف آئی آر دے دی کہ میں نے اسکے 3 لاکھ روپوں کی امانت میں خیانت کی ہے۔
دوسری ایف آئی آر انہوں نے مجھ پر اپنے ہی شوروم کے کاروباری شریک سے درخواست لیکر دے دی کہ میں نے اسکے کار کے بقایا واجبات ادا نہیں کئے حالانکہ میں نے اسکو 4 لاکھ ایڈوانس دیکر قسطوں پر خرید رکھی تھی۔
اسی طرح فراڈ کی یکے بعد دیگرے ایف آئی آر ہوتی گئیں میری ضمانت ہو گئی اور میں بری ہو گیا۔یہ بات بھی واضح ہے کہ آئی جی پنجاب جناب امجد جاوید سلیمی صاحب نے انکو کرپشن کے الزام میں معطل کرکے کلوز ٹو سی پی او آفس کردیا تھا۔ جسکا نوٹیفکیشن بھی ساتھ بھیج رہا ہوں۔بعد میں سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرکے بحال ہو کر پھر واپس جھنگ آ گئے۔اسکے بعد انہوں نے لوگوں سے درخواستیں دلوا کر خود پر میری انکوائری لگا لی۔ تو میں نے مجبور ہو کر ان مدعیوں کے خلاف عدالت میں رٹ دائر کی اور ڈی ایس پی کے خلاف سارے ثبوت اکھٹے کر کے ڈی پی او جھنگ عطاالرحمان صاحب کو پیش ہوا تو انہوں نے انکی خفیہ رپورٹس بنا کر آئی جی صاحب کو بھیج دیں۔ تو اس نے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے اپنی انکوائری CMIT پنجاب پر لگوا لی۔ وہاں سے پھر بچ نکلے۔میں بے بسی کے عالم میں مجبور ہو کر ملایشیا چلا گیا ۔ اور کل انہوں نے میری بیگم پر ایف آئی آر دے دی ہے اس الزام میں کہ انہوں نے انکے ریڈر سے بدتمیزی کی ہےڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی صاحب سالوں سے یہاں جھنگ میں بطور ڈی ایس پی سٹی تعینات ہیں 8 ویں دفعہ ہے کہ یہاں ہی اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں۔ صرف اسلئے کہ انکی پشت پہ ایم این اے بی بی بھروانہ کا ہاتھ ہے
نہایت ہی عاجزی کے ساتھ ارباب اختیار سے ملتمس ہوں کہ میری حالت زار پہ رحم کیا جائے میرے بیوی بچوں کو اس انتہائی ظالم طبیعت والے انتقامی شخص سے بچایا جائے۔ اور میرے سارے اس معاملے کی تحقیق کی جائے۔ میرے پاس اسکی محکمانہ اور اخلاقی کرپشن کے سارے ثبوت موجود ہیں خدا کیلئے مجھے انصاف دیا جائے۔اور میری اس پوسٹ کو پلیز زیادہ سے زیادہ شئیر کر کے مجھے انصاف دلایا جائے بہت بہت شکریہ
محمد اسماعیل سابق ASI
ضلع پولیس جھنگ
واٹس ایپ نمبر
+60198128610






0 تبصرے