“شہریت ترمیمی قانون کیخلاف بھارت میں ملک گیر احتجاج , کشمیر میں جاری احتجاج کی لہر اور ٹوٹے خوابوں کے تناظر میں لکھی گئی نظم”
ماہِ نو سالِ نو کا گیت مبارک ہو تمہیں
عہد دل بستہ لہو جیت مبارک ہوتمہیں
میرے محبوب کوئی گیت مرے پاس نہیں
جشنِ شاہی کا غریبوں پہ کرم کیا کہیے
بزمِ رنگیں میں ہوں گر سطوتِ شاہی کے چلن
اور بھی نخوت بھرے کعبے کے صنم کیا کہیے
میرے محبوب لبِ بستہ یہ تقصیر و الم
چشمِ پرنم کے سمندر میں گہر پلتے ہیں
مردہ خوابوں کے شراروں سے بہلنے والو
دم بدم گھر کے چراغوں سے بھی گھر جلتے ہیں
ان گنت خوابوں کی دنیا میں حقیقت کیا ہے
ان گنت لوگوں کی آنکھوں میں فروزاں ان کے
خواب جن کے لیے تعبیر کا امکان نہیں
کیوں کہ وہ خواب بھی ان کی ہی طرح مجرم ہیں
یہ چراغِ دلِ و جاں اور یہ ملالِ شبِ غم
رسم یہ چاک گریبانوں کی وحشت کے جنوں
سینہِ صبر کی مجبور یہ نم خوردہ چوب
دل کرم خوردہ ترے اور مرے موجود ہیں یوں
میرے محبوب کہاں ہے وہ محبت جس کا
جشن برپا ہے کہ چرچا ہے ترا حسنِ کلید
اب بھی لوگوں کے مقدر رہے بے نام و نشاں
بھوک افلاس کے مارے نہ کوئی وصلِ نوید
یہ دلِ زار یہ سالِ نو شبِ غم یہ تضاد
جشنِ نقشیں در و دیوار پہ سالِ نو کے داغ
صبح بے نور کی ظلمت یہ اندھیرے پا کر
صبح کے ہونے پہ بجھ جاتے ہیں سینوں میں چراغ
میرے محبوب کوئی گیت مرے پاس نہیں
عامر یوسف لاہور پاکستان

0 تبصرے