5 دسمبر 1971
یوم شہادت میجر محمد اکرم شہید نشان
حیدر
ہم کوئی شہادت نہیں
بھولے
ہر شہید ہمارے سر کا
تاج ہے
وہ جن کو فقط 16 دسمبر
1971 کو جنرل نیازی کا ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنا یاد رہتا ہے انہیں چاہیے
کہ ہلی کے محاذ پہ میجر محمد اکرم شہید کی داستان شجاعت و بہادری کا ضرور مطالعہ کریں۔
میجر محمد اکرم شہید
ڈنگہ ضلع گجرات میں 4 اپریل 1938 کو پیدا ہوئے۔میجر اکرم شہید اپنے ننھیال ڈنگہ میں
پیدا ہوئے لیکن ان کا موضع نکہ کلاں،جہلم سے تعلق تھا جو جہلم میں واقع ہے۔ان کی یادگار
بھی جہلم میں شاندار چوک کے ساتھ جہلم میں بنائی گئی ہے جب کہ تاریخ جہلم اور شہدائے
جہلم از انجم سلطان شہباز میں ان کے مکمل سوانح موجود ہیں۔ نیز پروفیسر سعید راشد نے
ان کے حوالے سے ایک کتاب شہید ہلی لکھی تھی۔
میجر اکرم نے 13 اکتوبر
1963کو آرمی میں شمولیت اختیار کی اور
4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں بطور کمیشنڈ
آفیسر چارج سنبھالا، 1965کی جنگ میں میجر اکرم نے بطور کپتان حصہ لیا اور لاہور بارڈر
پر قلیل تعداد میں سپاہیوں کے ساتھ بھارتی فوج کے خلاف کامیاب کاروائیوں کی قیادت کی
،
7 جولائی
1968 کو انہیں مشرقی پاکستان میں تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ
کی ایک کمپنی کی قیادت کی۔ ۔۔
1969میں کپتان محمد اکرم
کو میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔جب 1971 میں جنگ شروع ہوئی تو میجر اکرم اگلے مورچوں
پر ھلی ڈسٹرکٹ میں کمپنی کی قیادت کررہے تھے جو کہ بھارتی دباو کا مرکزی مقام تھا۔
ہلی کے محاذ پر میجر
اکرم نے اپنی فرنٹیئر فورس کی کمانڈ میں مسلسل پانچ دن اور پانچ راتیں اپنے سے کئی
گنا زیادہ طاقتور بھارتی فوج کی پیش قدمی روک کر دشمن کے اوسان خطا کر دئیے ۔میجر اکرم
شہید کی جانبازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ فوج کے مورال کو ڈاون کرنے
کیلئے بھارتی فوجی ہلی کے ارد گرد کے ایریا میں پاک فوج کے کیمپوں پر جہاز سے میجر
اکرم کی گرفتاری کے پمفلٹ پھینکتے رہے تاکہ سپاہی بددل ہو کر مقابلہ کرنا چھوڑ دیں
۔
مسلسل اور شدید ہوائی،
آرمر اور آرٹلری حملوں کا نشانہ ہونے کے باوجود میجر اکرم کی کمپنی ہر حملے کے سامنے
ڈٹی رہی اور پاک وطن کی ایک انچ زمین بھی ہاتھ سے نہ جانے دی یہاں تک کہ ایک موقع پر
دشمن نے ایک مکمل بریگیڈ کے ساتھ جسے پورے ٹینک اسکواڈرن کی پشت پناہی حاصل تھی ہمارے
دفاع کو توڑنے اور اپنی 20 مانٹین ڈویژن کیلئے راستہ بنانے کیلئے بہت بڑا حملہ بھی
کیا۔ تعداد اور اسلحہ میں دشمن کی برتری کے باوجود میجر اکرم اور ان کے ساتھیوں نے
دو ہفتوں تک دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنا کر اسے بھاری نقصان پہنچایا۔ میجر اکرم نے
جس شاندار مزاحمت کا مظاہرہ کیا وہ مشکل ترین حدوں تک لڑنے کی ان کی قابل تقلید بہادری
اور غیر متزلزل عزم و حوصلے کا ثبوت تھی۔ میجر اکرم اس دلیرانہ جنگ میں دوران کاروائی
شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے ایک بہا درانہ مشن کی تکمیل کیلئے اپنی اعلی ترین قربانی
کی داستان چھوڑ گئے۔
۔ہلی کے محاذ پر میجر اکرم کی جرات و بہادری نے ایسا رنگ جمایا کہ دشمن
بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا ، دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے پر میجر اکرم کو
’’ ہیرو آف ہلی ‘‘ کے نام سے شہرت ملی ، دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے 5دسمبر
1971کو جام شہادت نوش کیا اور سابقہ مشرقی پاکستان اور موجود ہ بنگلہ دیش کے شہر بوگرہ
میں سپرد خاک کئے گئے ۔میجراکرم شہید کے برادر حفیظ ملک اور ملک افضل نے بتایا کہ میجر
اکرم شہید کی بے مثال جرات وبہادری کا اعتراف اس وقت کے بھارتی کمانڈر نے بھی کیا اور
کہا کہ ’’اگر میجر اکرم جیسا جری افسر ہمارے پاس ہوتا تو اس کو سب سے بڑے اعزاز سے
نوازا جاتا ۔ اسی بھارتی آرمی جنرل کی سفارش پر پاکستان آرمی کی جانب سے شہید کو سب
سے بڑے فوجی اعزاز ’’نشان حیدر ‘‘ سے نوازا گیا
میجر محمد اکرام شہید
کا نشان حیدر کا اعزاز 31 جنوری 1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی
تقریب میں ان کی والدہ مسماۃ احسان بی بی نے حاصل کیا۔
آپ کو خراجِ عقیدت پیش
کرنے کے لیے جہلم شہر میں ایک عظیم الشان یادگار تعمیر کی۔ میجر اکرم شہید کی یادگار
کی تعمیر کا کام 1996ء میں اُس وقت کے 23 ڈویژن کے جی-او-سی میجرجنرل محمد مشتاق اور
ڈپٹی کمشنر جناب صفدر محمود نے اپنی نگرانی میں شروع کرایا اور اس کا باقاعدہ افتتاح
20 نومبر 1999ء کو اُس وقت کے جی-او-سی میجرجنرل تاج الحق نے کیا۔ یادگار کے متصل قائم
لائبریری کے لیے سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب نے خصوصی گرانٹ دی۔ میجر اکرم شہید کے
لواحقین حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے شہید کی یادگار تعمیر
کرائی۔ یہ یادگار آنے والی نوجوان نسل کے اندر جذبہ حُب الوطنی اور جذبۂ جاںنثاری
پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔
عدیل الرحمان

0 تبصرے