السلام علیکم
ہمارا کالج بورڈ کے امتحانات کے لئے سینٹر کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ سائنس سبجیکٹ کے پیپر دینے یہاں پر پنجاب کالج کے طالب علم آتے ہیں۔ آج فزکس کا پیپر تھا طالب علموں کی ایک بڑی تعداد پیپر دینے کے لئے کالج میں موجود تھی۔کالج کے اندر داخلی دروازے پر رش ہونے کی وجہ سے میں باہر رک گیا اور انتظار کرنے لگا۔ پاس کھڑے طلباء کا ایک گروہ بڑے پرجوش طریقے پر موبائل فون کی طرف متوجہ ہو کر گفتگو کر رہا تھا ایک نے پوچھا یار اس کا جواب بتا دوسرے نے بتایا اس کا جواب ٹائم آف فلائٹ ہے۔ مجھے شک گزرا کہ ان کے پاس پیپر لیک آؤٹ ہونے کے بعد زیر بحث ہے یاد رہے ابھی پیپر شروع ہونے میں پندرہ منٹ باقی تھے۔ اور ہمارے کالج سینٹر پر سوالیہ پیپر نہیں پہنچے تھے۔
رش کم ہوا تو میں اندر سٹاف روم میں چلا گیا۔ دو منٹ کیلئے باہر نکلا تو سامنے امتحانی عملہ میں سے ایک شخص پیپر لئے آرہا تھا اور پیپر کے لفافے پیک حالت میں موجود تھے اور ان سے گڑبڑ کی امید اس لئے نہیں تھی کہ ہمارے موجودہ پرنسپل اور RI مضبوط کردار کے مالک ہیں انہوں نے پہلے دن ہی عملہ امتحانات کو متنبہ کر دیا تھا۔
باہر کھڑے طلباء کو کلاس فور بار بار اندر آنے کا کہہ رہا تھا کہ پیپر شروع ہو گیا ہے لیکن باہر کھڑے طلباء کے گروپ موبائل فون دیکھنے میں مصروف رہے اور پیپر شروع ہونے کے پانچ منٹ بعد کمرہ امتحان میں داخل ہوئے۔
خیر امتحان ختم ہونے کے بعد جب کوئسچن پیپر سٹاف روم میں منگوایا تو اس میں ٹائم آف فلائٹ والا MCQ موجود تھا۔
سٹاف روم میں جب یہ معاملہ زیرِ بحث آیا تو ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں جہاں بنک دور ہوتے ہیں اور ایک گھنٹہ پہلے پیپر وصول کرنے ہوتے ہیں وہاں پر RI کی لاپرواہی یا ملی بھگت سے معروضی اور بعض اوقات انشائیہ پیپر دونوں لیک آؤٹ ہو جاتے ہیں۔
یہ تو پنجاب کالج جیسے پرائیویٹ اداروں کا قابل افسوس حال ہے اور پوزیشن لینے کا طریقہ ہے۔ قوم کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
#EducationInPunjab
Habib Ahmad

0 تبصرے