style="display:block; text-align:center;"
data-ad-layout="in-article"
data-ad-format="fluid"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="8039554503">
سوشل میڈٰیا پر دو دنسے طوفان مچا تھا کہ پنو عاقل تھانہ
سندھ کا عام سپاہی سی ایس ایس کر کے اے ایس پی بن گیا ۔ سب سےپہلے یہ خبر ایس ایچ
او مشتاق جتوئی نے شئر کی اور کانسٹیبل کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مبارکبادیں دے
کر گھر چھٹی پر بھیج دیا۔
اس سے پہلے ایس ایچ او نے یہ خبر اپنے افسران بالا کو بھی دی
اور فخر کا اظہار کیا کہ یہ دیکھو میرا گن مین سی ایس پی افسر بن گیا ہے سندھ
پولیس زندہ باد۔
سکھر میں سندھی نیوز چینل کے صحافی جان محمد نے یہ خبر فوری
اپنے چینل پر چلائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا سندھ اور سندھ پولیس نعروں سے گونج
اٹھا۔
style="display:block; text-align:center;"
data-ad-layout="in-article"
data-ad-format="fluid"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="8039554503">
سوشل میڈٰا پر اک طوفان برپا ہو گیا کہ ایک عام سپاہی نے
ڈٰیوٹی کے ساتھ ساتھ محنت کرکے سندھ کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔'
سپاہی شاہ رخ کلہوڑ کا نام ہر طرف گونجنے لگا اور چینلز بھی اس
کو کوریج دینے لگے۔
شاہ رخ کا نام کمیشن کی ویب سائٹ پر اٹھتر نمبر پر درج تھا اور
اسکی ایلوکیشن بطور اے ایس پی پولیس ہوئی تھی۔
معاملے میں دلچسپ اور حیران کن موڑ اس وقت آیا جب پنوں عاقل کے
ایک شہری شاہ رخ شیخ نے یہ سب دیکھا تو اپنے سٹیٹس پر پوسٹ کی کہ اے ایس پی سیلیکٹ
ہونے والا شاہ رخ سپاہی نہیں بلکہ میں ہوں میرا نام شاہ رخ شیخ ہے اور پنوں عاقل
سے میرا تعلق ہے۔ اور یہ امتحان میں نے 2019 میں پاس کیا ہے۔ اور میں لمز لاہور سے
گریجوایٹ ہوں۔
style="display:block; text-align:center;"
data-ad-layout="in-article"
data-ad-format="fluid"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="8039554503">
میڈٰیا پر چلنے والی خبر جھوٹٰی ہے اور کانسٹٰیبل فراڈ ہے
اس کی اطلاع اس نے ایس ایس پی سکھر عرفان سموں کو دی جس ہر ایس
ایس پی نے فوری کاروائی کرتے ہوئےایس ایچ او کو معطل کر دیا اور مزکورہ کانسٹیبل
کو گرفتار کر لیا گیا جو اپنے گھر پر جشن مان رہا تھا۔
ایس ایس پی عرفان کے مطابق اس معاملہ کی سخت کاروائی کی جائے
گی۔
اور سوشل میڈیا صارفین سے بھی گزارش ہے کہ خبر کی تصدیق کر لیا
کریں ویسے بھی یہ اسلامی حکم ہے کہ خبر کی تحقیق کیر لیا کرو۔
شکریہ۔ بی بی سی نیوز۔


0 تبصرے