Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

ماؤں کا عالمی دن پیار محبت اور خدا کی نعمتوں کا دن۔


style="display:block; text-align:center;"
data-ad-layout="in-article"
data-ad-format="fluid"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="9734767794">










ماں کائنات کی سب سے عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ واحد ہستی ہے
جس سے  دنیا بھر کے لوگ بلحاظ عقیدہ، مسلک،
علاقہ ، ملک، ملت اور زبان ونسل محبت کرتے ہیں رکھتے ہیں۔
 



ہر سال کا ہر دن ہی ماں کے لیے  ہے ،لیکن بطور  خاص ہر سال
مئی کے دوسرے اتوار کو ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔تاریخی اعتبار سے  یہ
دن منانے کا پہلے پہل یونانی تہذیب میں سراغ ملتا ہے۔


سولہویں صدی کے انگلستان میں ایسٹر سے 40 روز پہلے ’’مدرنگ سنڈے“
منایا جاتا تھا۔ امریکہ میں مدرز ڈے کا آغاز 1872ء میں ہوا۔ پاکستان میں بھی مڈرز
ڈے بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے


بچے اپنے والدین خاص طور پر اپنی ماں کے لیے تحفہ تخائف لیتے ہیں اور
انکے ساتھ وقت گزارتے اور دعائیں لیتے ہیں۔یہ کہنا بجا ہے کہ بے لوث محبت کو اگر
ایک لفظ  میں سمیٹا جائے وہ ’ماں‘  ہے،جسے سنتے ہی تحفظ اور ایک پرسکون
چھاؤں کا سا احساس روح کے اندر تک اتر جاتا ہے۔


قدرت کا وہ انمول تحفہ ماں ہے جس کے قدموں تلے جنت رکھی، جو دکھوں
اور مصیبتوں کے سامنے ڈھال بن کر بچوں کو سکھ دیتی ہے۔ماں کی شان میں شاعر نے کچھ
یوں عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے ۔ ماں بہت غصے
میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے۔

style="display:block; text-align:center;"
data-ad-layout="in-article"
data-ad-format="fluid"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="9734767794">



دنیا کے دیگر مذاہب نے بھی ماں کی بہت شان بیان کی ہے مگر ماں کی جو
عظمت اسلام نے بیان کی ہے وہ شاید دنیا کے کسی دوسرے مذہب و ملت میں ہو۔


اسلام کی تعلیمات کا آغازہی ماں باپ کی خدمت سے ہوتا ہے۔ کہیں ماں کے
قدموں میں جنت رکھی گئی ہے۔ تو کہیں  ہر کامیابی سے پہلے ماں کی دعا حاصل
کرنے  کے لئے نبیوں کو تاکید کی گئی ۔


ماں کو دکھ دینے والے سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور قران میں
کہا گیا ہے کہ والدین کے سامنے زباں بھی اونچی تک  تک نہ کرو۔


ماں کی محبت ایک بحر بیکراں ۔ لفظ ماں کی بے پایاں محبت کے بیان سے
قاصر ہیں ، تو  اس کے  خلوص و ایثار کے کا اندازہ لگانا ممکن ہی 
نہیں۔ بابا بھلے شاہ کہتے ہیں۔۔ماواں بعد محمد بخشا کون کرے رکھوالی۔اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمارے والدین کا سایہ ہم پر سلامت  رکھے اور ہمیں انکی خدمت کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین۔



style="display:block; text-align:center;"
data-ad-layout="in-article"
data-ad-format="fluid"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="9734767794">



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے