Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

جناب وزیر تعلیم صاحب ڈگری قسمت نہیں محنت سے ملنی چاہیئے محنت پر ڈاکہ نہ ڈالیں۔



style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="1913416899"
data-ad-format="link"
data-full-width-responsive="true">


محترم و مکرم جناب وفاقی وزیر تعلیم 
السلام علیکم! امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے ۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امتحانات کو منسوخ کردیا ھے اب پچھلے رزلٹ پر اگلی جماعت میں پرموشن ھوگی ھمارے مطابق حکومت کی طرف سےبورڈز کے امتحانات کینسل کرنے کا فیصلہ نہایت  نامناسب  ہے. کم از کم سیکنڈ ائیر کا امتحان لے لیا جائے اور اس کے لئے ایس او پیز بنا لیے جائیں جو درج ذیل ہیں 
1۔امتحانی مراکز کی تعداد بڑھا دی جائے اس سلسلے میں تمام نجی اور سرکاری  اداروں کی عمارتیں خالی پڑی ہیں ان کو استعمال کیا جا سکتا ھے. 
2۔طلباء و طالبات کے درمیان فاصلہ بڑھا کے بٹھایا جا سکتا ہے۔
3۔ مارکنگ گھر پہ پرچے بھیج کے کرائی جائے. میٹرک کے تو پیپر بھی ہو چکے ہیں ان کی مارکنگ پرچے گھر بھیجوا کے کروائی جائے۔
4۔نہم اور فرسٹ ائیر کے منسوخ کر دیں اور وہ اگلے سال کمباءین لے لیں. 
 اس ضمن میں چند مزید  گزارشات :


style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="1913416899"
data-ad-format="link"
data-full-width-responsive="true">


اس بات کا تجربہ کیا گیا ہے کہ طلبہ کی کثیر تعداد ایسی ہوتی ہے جو سال 9th اور 1st year میں اچھے نمبرات حاصل نہیں کر پاتے اور 10th اور 2nd year میں بہت زیادہ محنت کرتے ہیں. یہ الگ بحث ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس بحث میں جائے بغیر حکومت سے درخواست ہے کہ ایجوکیشن پالیسی بناتے ہوئے زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھ لیا کرئے ۔ایسے  بہت سے بچے ھوتے ہیں جو کسی بیماری، صدمے یا لاپرواہی کی وجہ سے 9th اور 1st year میں اچھے نمبرات نہیں لے پائے جب کہ اگلے سال بہت زیادہ محنت کر کے اپنی نمبرز کو اچھا بناتے ہیں. ایسے طلبہ کا کیرئیر تباہ ہو جائے گا. اب اگر امتحانات منعقد کرنا ممکن نہیں تو ایسا کیا جائے کہ 9th اور 1st year کے طلبہ سے پیپر نہ لیے جائیں اور اگلے سال انہیں بچوں کے 10th اور 2nd year کے نمبرات کے مطابق ان کے 9th اور 1st year کے نمبرات لگائے جائیں تا کہ طلبہ کو موقع مل سکے محنت کر کے اپنی ڈگری secure کرنے کا. جہاں تک اس سال دسویں اور سال دوم کے طلبہ کا تعلق ہے ان سے پیپر SOPs کے اصولوں کے مطابق ضرور لیے جائیں چاہے جولائی میں ہی کیوں نہ لینے پڑیں. طلبہ کی ڈگری قسمت کے سہارے نہیں اپنی محنت کے سہارے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے.....


style="display:block"
data-ad-client="ca-pub-7299583156598908"
data-ad-slot="1913416899"
data-ad-format="link"
data-full-width-responsive="true">


حکومت کے امتحانات کو ختم کرنے کے فیصلے پر پڑھنے والے طلبہ پریشان جب کہ کام چور طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے..... اب بہت سارے طلبہ میڈیکل اور انجینئرنگ کی سیٹس نہیں لے پائیں گے کیونکہ ان کی پچھلی کلاس کا رزلٹ اچھا نہیں رہا تھا..... اور اس بار ان نے بہت محنت کر رکھی تھی نقصان بھرنے کے لیے...... ہر سال انٹری ٹیسٹس کی تیاری کرواتے ہوئے میں یہ بات محسوس کرتا رہتا ہوں کہ طلبہ سال دوم کے نمبرات کی بنیاد پر سیٹ نکال لیتے ہیں..... اب ان طلبہ کا کیا ہو گا؟
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین 
                                    تحریک اساتذہ پنجاب

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے