Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

احمد فراز کی خوبصورت نظم کنیز



احمد فراز کی خوبصورت نظم کنیز










حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پر 





حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر 





حضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیں 





حضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیں 





حضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوں 





حضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوں 





حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے 





حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہے 





حضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پر 





حضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پر 





حضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئے 





حضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئے 





حضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوں 





حضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوں 





حضور چھوڑیے ہمیں ہزار اور روگ ہیں 





حضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں





احمد فراز


ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے