Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

نبی کریم کے صحابہ سے کہے گئے قابل رشک الفاظ

 *لکھنے والا کون ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن تحریر بہت اچھی لگی* ....❤️



ذرہ سوچیں کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو کیسا لگا ہو گا جب انہوں نے رسول اللہﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا " معاذ (رضی اللہ عنہ)اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ " 


 اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو کیسی خوشی ہوئی ہوگی  جب رسول اللہﷺ نے انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ” اے اللہﷻ اسے قرآن  سکھا دیجیے“۔


 حضرت علی ابن ابی طالبؓ کیا سوچتے ہوں گے جب انہوں نے رسول اللہﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں کل ضرور جھنڈا ایک ایسے شخص کے حوالے کروں گا جو اللہﷻ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہﷻ اور اس کا رسول بھی اسے محبت کرتے ہیں اور پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو یہ خود ہیں ۔ ؟


 یا سعد بن ابی وقاصؓ کے شل ہاتھوں میں تو بجلی دوڑ گئی ہو گی جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا ہوگا کہ

 " اے سعد(رضی اللہ عنہ)تیر چلا ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان "


  اور حضرت عثمان بن عفانؓ کے کیا جذبات ہوں گے جب انہوں نے تبوک کی جنگ کےلیے جانے والی فوج کو مکمل سامان فراہم کیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "عثمان نے آج جو کچھ کیا اس کے بعد کچھ بھی اسے نقصان نہ پہنچائے گا ۔"


 یا حضرت ابو موسیٰ اشعرؓی نے پھر قرآن کی تلاوت کیسے کی جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کاش تم مجھے اس وقت دیکھ لیتے جب میں کل تمہاری تلاوت سن رہا تھا “


 اور حضرت سائب بن یزیؓد کیا سوچتے ہوں گے کہ جن  کے سر کے بالوں کو رسول اللہﷺ  نے چھوا تو صرف وہ  ہی سیاہ رہ گئے ، جب ان کے باقی بال بڑھاپے میں سفید ہو گئے ؟


 اور انصاؓر کی خوشی کا کیا عالم ہوا ہوگا جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا ۔

 

 اور انصارؓ کیسا فخر کرتے ہوں گے جب اللہ کے نبیﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے اور نفاق کی علامت ان سے دشمنی ہے ۔


 اور حضرت صدیقؓ کے جذبات کیا تھے جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا دوست بناتا تو ابوبکر کو بنا لیتا ۔


حضرت اماں عائشؓہ کا دل تو دھڑکنا بھول ہی گیا ہو گا جب رسول اللہﷺ نے اُن کے نام کے ساتھ جواب دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟


 اور حضرت بلال بن رباحؓ کے آنسو کیا تھم گئے ہوں گے جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے بلال (رضی اللہ عنہ) مجھے وہ عمل تو بتاؤ جس سے تم سب سے زیادہ امید رکھتے ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے ۔


 اور حضرت عمر بن خطابؓ  کو کیسا محسوس ہوا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس داخل ہونے کی اجازت چاہی اور آپ ﷺ نے دربان سے فرمایا کہ اسے داخل ہونے دو اور جنت کی بشارت دو ۔

ذ,

 اور اب ذرا تصور کریں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ  کو دیکھیں گے اور محمد عربیﷺ ہم سے کہیں گے : " تم میرے وہ بھائی ہو جن سے ملنے کے لیے میں رویا ، تم میرے وہ بھائی ہو جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے ۔ "

اس وقت ہم کیا محسوس کریں گے؟

یا اللہ ہمیں بھی ان میں شامل فرما (آمین)


#منقول

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے