ڈریس کوڈ کا رولا....
ائیر ہوسٹسز کا ایک ڈریس کوڈ ہے.
نہ کوئی مخالفت کرتا ہے نہ اس "زبردستی" کے خلاف بولتا ہے... جسے نہیں پسند اور اپنی "آزادی" زیادہ عزیز ہے، جاب نہ کرے... سمپل...
ویٹریسز کا ڈریس کوڈ ہے.
نہ کوئی مخالفت کرتا ہے نہ اس "زبردستی" کے خلاف بولتا ہے... جسے نہیں پسند اور اپنی "آزادی" زیادہ عزیز ہے، جاب نہ کرے... سمپل...
ہر کھیل کا ایک ڈریس کوڈ ہے.
نہ کوئی مخالفت کرتا ہے نہ اس "زبردستی" کے خلاف بولتا ہے... جسے نہیں پسند اور اپنی "آزادی" زیادہ عزیز ہے، نہ کھیلے... سمپل...
بہت سے ہسپتالوں میں پروفیسرز اپنے وارڈز میں میل ڈاکٹرز کو جینز، ٹی شرٹ اور جاگرز کے ساتھ گھسنے کی اجازت نہیں دیتے. نہ کوئی مخالفت کرتا ہے نہ اس "زبردستی" کے خلاف بولتا ہے... جسے نہیں پسند اور اپنی "آزادی" زیادہ عزیز ہے، جاب نہ کرے... سمپل...
اسی طرح بہت سے اداروں کا مخصوص ڈریس کوڈ ہوتا ہے جس کی نہ کوئی مخالفت کرتا ہے نہ اس "زبردستی" کے خلاف بولتا ہے... جسے نہیں پسند اور اپنی "آزادی" زیادہ عزیز ہے، جاب نہ کرے... سمپل...
حتی کہ بہت سی فارمل پارٹیز اور فنکشنز کا ڈریس کوڈ ہوتا ہے جس کی پابندی لازمی ہوتی ہے اور جس کے بغیر آپکو گیٹ سے ہی واپس بھیج دیا جاتا ہے.... بالکل ان صاحب کی طرح جنہیں بتایا گیا تھا کہ پارٹی کے ڈریس کوڈ میں ریڈ ٹائی کی پابندی لازم ہے. اور جب وہ پہنچے تو اس بات پر سخت ناراض ہوئے کہ یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ باقی کپڑے بھی پہننے ہیں...
باقی کپڑوں سے یاد آیا کہ نیوڈ بیچز تک کا ایک "ڈریس کوڈ" ہے جس میں آپ کو لازماً بغیر کسی ڈریس کے جانا ہوتا ہے ورنہ... بے شرموں میں شرم کا کیا کام...!!!
تو پھر پاکستان میں ہی جب خواتین پر کوئی ایسا ڈریس کوڈ اپلائی کیا جاتا ہے جس سے تاثر یہ ملتا ہو کہ مقصد انکی "جنسی دہشت گردی" کو کم کرنا اور "جنسی خودکش حملوں" کو روکنا ہے... تو ایک شور کیوں مچ جاتا ہے... اور باقی سارے ڈریس کوڈز کیوں ہنسی خوشی ڈسپلن کے نام پر برداشت کر لیے جاتے ہیں؟
وجہ بہت آسان ہے...
دراصل ہم نے شعوری طور پر اسلام کو بطور دین، یعنی نظام زندگی، قبول ہی نہیں کیا. لہٰذا اسلام کے نام پر ہر پابندی ہمیں محض ایک "مذہبی" پابندی لگتی ہے، دینی نہیں... اور چونکہ ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے، لہٰذا ہمیں اپنے ذاتی معاملے یا پرائیویسی میں مداخلت گراں گزرتی ہے اور ہم آہ و فغاں اور چوں چاں شروع کر دیتے ہیں. جبکہ دیگر تمام پابندیاں چونکہ سیکولر بنیادوں پر ہوتی ہیں... کہیں کاروبار اور مارکیٹنگ کے لوازمات کے طور پر تو کہیں چستی اور حرکت میں آسانی کیلئے، تو کہیں "خوشگواری" کا احساس پیدا کرنے کو تو کہیں حفاظت کے پیش نظر...
یعنی ہم نے سیکولرازم کو تو بطور دین، یعنی نظام زندگی، کے قبول کر لیا ہے جسکا حقیقی مفہوم "لادینیت" ہے.... اسکی پابندیوں کے مطابق ہم اپنی مرضی کو ڈھال لیتے ہیں... تو "میرا جسم، میری مرضی" پر بھی آنچ نہیں آتی اور نظام زندگی بھی چلتا رہتا ہے....
اس کے برعکس جو دین، ان الدین عند اللہ الاسلام، کے مصداق ہمیں عطا کیا گیا تھا، اسے ہم نے محض ایک مذہب، چند رسمی عبادات کا مجموعہ اور ایک "ذاتی مسئلہ" بنا کر رکھ دیا ہے.... اور یہاں ہماری سب سے بڑی(مشرکانہ.... جی بالکل... خالصتاً مشرکانہ) دلیل ہوتی ہے، "میرا جسم، میری مرضی"... کیونکہ یہاں ہم اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالنے پر تیار نہیں!!!
(ڈاکٹر رضوان اسد خان)

0 تبصرے